دعوت الی اللہ اُمت مسلمہ کی ذمہ داری

دعوت اِلَی اللہ اُمت مسلمہ کی ذمہ داری

رسول اللہ  ﷺ اِس بات کے بے حد حریص تھے  کہ امت مُسلمہ کا ایمان محفوظ رہے اور امت مسلمہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے اورغضب الٰہی کے اسباب سے کنارہ کش رہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی  آپ  ﷺ  پر  قیامت تک رحمتوں کا نزول  ہو کہ آپ ﷺ نے پیغام الٰہی   پہنچایا، امت مسلمہ کو  نجات کا راستہ بتلایا، اللہ کے عذاب سے ڈرایا  اوراللہ کے لئے اس کے بندوں کی خیر خواہی کرتے ہو ئے ، دعوت الی اللہ کا  حق ادا کر دیا۔

 آ پﷺ اللہ  سبحانہ و تعالی ٰکے آخری رسول ہیں، ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ آپﷺ کے بعد  کوئی  نبی  و رسول  دنیا میں  تشریف نہیں لائے گا۔ اسلئے اب  ختم نبوت کےصدقہ اللہ  کا پیغام  ساری انسانیت تک پہنچانا  ہماری یعنی ساری امت ِمسلمہ کی ذمہ داری ہے۔

تمام  اہل علم کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کی شریعت لوگوں کو سکھائیں اور شرک و بدعات و معاصیت  وغیرہ جو کچھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان پر  حرام کیا ہے، اُ س سے  روکیں اور اسے اپنےدلائل سے پوری شرح و  بسط کے ساتھ نہایت واضح اورشافی انداز کے ساتھ  بیان کریں ، لوگوں کو  ظلمات سے نکال کر  نور کی طرف  لائیں اور اس طرح ا ن پر اللہ نےدعوت و تبلیغ  کا جو فریضہ  واجب کیا ہے وہ ادا کریں،

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ  (سورہ آل عمران)

(مسلمانو! اس وقت) تم ہی بہترین امت ہو جنہیں لوگوں(ساری انسانیت) (کی اصلاح و ہدایت) کے لیے بھیجا گیا ہے : تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر [٩٩] ایمان لاتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب ایمان [١٠٠] لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ لوگ تو ایمان لے آئے ہیں مگر ان کی اکثریت نافرمان ہی ہے ۔( ترجمہ)

[٩٩] آیت کے اس حصہ پرغور فرمائیے اللہ پر ایمان لانا سب باقی اعمال و افعال سے مقدم ہے۔ لیکن امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر محض اس لیے پہلے کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کو واضح کرنا مقصود تھا۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اے مسلمانو! تم بہترین امت صرف اس لیے ہو کہ تم برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک مسلمان اچھے کاموں کا حکم دیتے اور برے کاموں سے روکتے رہیں گے وہ بہترین امت رہیں گے اور جب انہوں نے اس فریضہ سے کوتاہی کی تو پھر بہترین امت نہیں رہیں گے۔ برے کاموں سے مراد کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ، فسق و فجور ہر قسم کی بداخلاقی اور بے حیائی اور نامعقول باتیں شامل ہیں اور ان سے روکنے کا فریضہ فرداً فرداً بھی ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔ اور اجتماعاً امت مسلمہ پر بھی۔ ہر ایک کو اپنی اپنی حیثیت اور قوت کے مطابق اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونا لازم ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کوئی برائی دیکھے تو اسے بزور بازو ختم کردے اور اگر ایسا نہیں کرسکتا تو زبان سے ہی روکے اور اگر اتنا بھی نہیں کرسکتا تو کم از کم دل میں ہی اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے” (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب کون النہی عن المنکر من الایمان) اور نیک کاموں سے مراد توحید اور ارکان اسلام کی بجا آوری، بدعات سے اجتناب،اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ، قرابتداروں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام مسلمانوں سے مروت، اخوت و ہمدردی اور خیر خواہیوغیرہ ہیں۔

[١٠٠] ایک وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تمام جہاں والوں پر فضیلت بخشی تھی۔ مگر ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیا بلکہ خود بھی بے شمار بڑے بڑے جرائم میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کی امامت و قیادت کی ذمہ داری ان سے چھین کر امت مسلمہ کے حوالے کردی۔ اب جو فضیلت انہیں حاصل تھی وہ امت مسلمہ کو حاصل ہوگئی اور قیادت کی اس تبدیلی کی واضح علامت چونکہ تحویل قبلہ تھی۔ لہذا یہود جتنے تحویل قبلہ پر چیں بہ جبیں ہوئے اتنے کسی بات پر نہ ہوئے تھے۔ اور یہ فضیلت اللہ کی دین ہے جس کو مناسب سمجھتا ہے اسے دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا : گزشتہ لوگوں (یہود و نصاریٰ) کے مقابلہ میں تمہارا رہنا ایسا ہے جیسے عصر سے سورج غروب ہونے تک کا وقت۔ اہل تورات کو تورات دی گئی۔ انہوں نے (صبح سے) دوپہر تک مزدوری کی، پھر تھک گئے تو انہیں ایک ایک قیراط ملا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی، انہوں نے عصر کی نماز تک مزدوری کی پھر تھک گئے۔ انہیں بھی ایک ایک قیراط ملا۔ پھر ہم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا۔ ہم نے عصر سے سورج غروب ہونے تک مزدوری کی (اور کام پورا کردیا) تو ہمیں دو دو قیراط دیئے گئے۔ اب اہل کتاب کہنے لگے : ”پروردگار! تو نے انہیں تو دو دو قیراط دیئے اور ہمیں ایک ایک حالانکہ ہم نے ان سے زیادہ کام کیا ہے” اللہ عزوجل نے انہیں جواب دیا : میں نے تمہاری مزدوری (جو تم سے طے کی تھی) کچھ کم تو نہیں کی” انہوں نے کہا : ”نہیں” اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”تو پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے جو کچھ چاہوں دے دوں۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب من ادرک رکعۃ من العصر قبل المغرب )

 اس آیت میں اہل کتاب کو یہ بتلایا جارہا ہے کہ اگر وہ ایمان لے آتے تو اس ذلت و خواری سے بچ سکتے تھے جو ان کے مقدر ہوچکی ہے، اگر وہ خیر الامم میں شامل ہوجاتے ہیں تو دنیا میں ان کی عزت بڑھتی اور آخرت میں دوہرا اجر ملتا۔ مگر حق کے واضح ہونے کے بعد ان کی اکثریت نافرمانی پر ہی اڑی رہی اور اپنا ہی نقصان کیا۔

امام احمدؒ ، ترمذیؒ اور حاکم نے معاویہ بن حیدہ (رضی اللہ عنہُ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے مسلمانو ! تمہارا وزن ستر امتوں کے برابر ہے، اور تم ان سے بہتر اور اللہ کے نزدیک ان سے زیادہ مکرم ہو۔

 حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کو یہ مقام، ان کے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ملا ہے، اس لیے کہ اللہ نے انہیں مخلوق میں سب سے اشرف اور رسولوں میں سب سے اعلیٰ بنایا تھا، اور انہیں ایک ایسا عظیم اور کامل دین دے کر بھیجا تھا جو ان سے پہلے کسی نبی یا رسول کو نہیں ملا، ان کے اس دین کا پابند رہ کر تھوڑا عمل بھی دوسرے مذاہب والوں کے عمل کثیر سے زیادہ افضل ہے۔

 اور یہ مقام ہر اس شخص کو ملے گا جو مذکورہ بالا صفات کے ساتھ متصف ہوگا، اور جس کے اندر یہ صفات نہیں پائی جائیں گی، وہ اہل کتاب یعنی یہودیوں کے مشبہ ہوگا، جیسا کہ آیت کے آخری حصہ میں ان کا ذکر آیا ہے، کہ ان میں سے اکثر لوگ کفر و ضلالت اور فسق و معصیت میں مبتلا ہیں۔ (  آیت خلاصہ تفاسیر)

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ   فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا  ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ ۔

(سور ہ آل عمران :۱۸۷)

اور جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ (اس میں جو کچھ لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا  تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔  (ترجمہ ابن کثیر)

اس آیت کا مقصود امت مسلمہ کے اہل علم کو ڈرانا ہے کہ  وہ حق کے چھپانے کے سلسلے میں ظالم اہل کتاب کے مسلک پر نہ چلیں کہ اس کے ذریعہ آخرت کی  بجائے دنیا کمائیں ،

” یعنی علمائے اہل کتاب(۱)سے عہد لیا گیا تھا کہ جو احکام و بشارات کتاب اللہ میں ہیں انہیں صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کرینگے اور کوئی بات نہیں چھپائیں گے نہ ہیر پھیر کر کے ان کے معنی بدلیں گے، مگر انہوں نے ذرہ برابر پروا نہ کی اور دنیا کے تھوڑے سے نفع کی خاطر سب عہد و پیمان توڑ کر احکام شریعت بدل ڈالے آیات اللہ میں لفظی و معنوی تحریفات کیں جس چیز کا ظاہر کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا یعنی پیغمبر آخرالزماں کی بشارت، اسی کو سب سے زیادہ چھپایا،

[ (۱) اللہ تعالیٰ نے علماء توریت وانجیل پر واجب کیا تھا کہ ان دونوں کتابوں میں جو دلائل ہیں وہ لوگوں کو خوب اچھی طرح شرح کرکے سمجھا دینا اور ہرگز نہ چھپانا۔یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر جگہ جگہ بائیبل میں آتا ہے۔ خصوصاً کتاب استثناء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں انہیں اپنے دل پر نقش کرنا، اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے، ہر وقت ان کا چرچا کرنا، اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر ان کو لکھ دینا (٦: ٤۔ ٩)۔ پھر اپنی آخری نصیحت میں انھوں نے تاکید کی کہ فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرنا کہ کوہ عیبال پر بڑے بڑے پتھر نصب کر کے توراة کے احکام ان پر کندہ کردینا (٢٧: ٢۔ ٤)۔ نیز بنی لاوی کو توراة کا ایک نسخہ دے کر ہدایت فرمائی کہ ہر ساتویں برس عید خیام کے موقع پر قوم کے مردوں، عورتوں، بچوں سب کو جگہ جگہ جمع کر کے یہ پوری کتاب لفظ بلفظ ان کو سناتے رہنا۔ لیکن اس پر بھی کتاب اللہ سے بنی اسرائیل کی غفلت رفتہ رفتہ یہاں تک بڑھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سات سو برس بعد ہیکل سلیمانی کے سجادہ نشین، اور یروشلم کے یہودی فرماں روا تک کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں توراة نامی بھی کوئی کتاب موجود ہے۔ (٢۔ سلاطین۔ ٢٢ : ٨۔ ١٣)۔ ]

جس قدر مال خرچ کرنے میں بخل کرتے اس سے بڑھ کر علم خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی۔ اور اس کنجوسی کا منشاء بھی مال و جاں اور متاع دنیا کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا، یہاں ضمنا مسلمان اہل علم کو متنبہ فرما دیا کہ تم دنیا کی محبت میں پھنس کر ایسا نہ کرنا۔” ( آیت خلاصہ تفاسیر)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جو عالم جان کر کسی دین کی بات کو چھپاے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔  (ترمذی وابودادؤ) ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور حاکم نے اس حسن کو بخاری ومسلم کی شرط کے موافق صحیح بتلایا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے :

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ  ١٥٩؁ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُوْا فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۚوَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ١٦٠؁

 ( سورۃ البقرہ: ۱۵۹تا۱۶۰)

 جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر اللہ سبحانہ تعالیٰ اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ ١٥٩؁  ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں۔ ١٦٠؁

بہت سی آیات  قرآنیہ اور احادیث نبویہ اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ  اللہ کی طرف دعوت دینا اور بندوں کو اللہ کی راہ دکھانا بہترین نیکی اور اہم ترین فرائض میں سے ہے اور قیامت تک کیلئے یہی انبیا ؑ اور ان کے متبعین کا راستہ بھی  ہے جیساکہ اللہ سبحانہُ  وتعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ   (سورہ فصلت : ۳۳)

اور اس سے بڑھ کر اچھی بات اور کس کی ہوسکتی ہے جو (لوگوں کو) بلائے اللہ کی طرف اور وہ خود نیک عمل بھی کرے اور کہے کہ بیشک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں.

اور اللہ سبحانہُ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ ۷ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ  ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ  (سورہ یوسف: ۱۰۸)

آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے، میں اورمیرے متبعین (پیروکار) اللہ کی طرف بلا تے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ  اور اللہ پاک ہے  اور میں مشرکوں میں نہیں۔

اس آیت کا مقصود یہ ہے کہ اللہ  سبحانہ وتعالیٰ نےرسول اللہ  ﷺکو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ دین اسلام اور

 تو حید ہی میر اراستہ ہے ۔ میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتاہوں جو ہر عیب سے پاک ہے ۔ میں تو تمام اہل دنیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ سب خیالات و اواہام کو چھوڑکر ایک اللہ کی طرف آئیں ۔ اس کی صفات وکمالات اور اس کے احکام وغیرہ کی صحیح معرفت  حاصل  کریں ،صحیح راستے پر چلیں ۔ میں اور میرے ساتھی اس سید ھے راستے پر دلیل وحجت اور بصیرت کی روشنی میں چل رہے ۔ اللہ نے مجھے ایک نو ردیا ہے جس سے میرے سب ساتھیوں کے  دل و دماغ روشن ہوگئے ہیں ۔ میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں کہ لوگوں کو اپنابندہ بناؤں ۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے ، نہ اس کی نظیر ہے اور نہ اس کا کوئی مشیر ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی بیوی ، وہ ان تمام باتوں سے پاک اور بلند وبالا ہے ۔ کائنات کی ساری مخلوق اس کی حمد وتسبیح کرتی ہے ۔ (عثمانی ٦٩٥۔ ا ، ابن کثیر ٤٩٦۔ ٢)

اور  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

‘ اور  جو شخص خیر کی طرف رہنمائی کرے، اس کیلئے اس  نیکی کے کرنیوالے کے برابر اجرہے۔ ( مسلم ۱/ ۱۳۷ )

اور آپ  ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہُ سے فرما:

‘ اگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کے ذریعہ ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو آپ کے لئے سرخ اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ (بخاری۱  /۵۲۵ ، مسلم ۱  /۲۷۹)

اور بھی روایات و احادیث اس مضمون کی بہت سی ہیں جوانشااللہ وقتاً فوقتاً  ہم اپنی اِس چھوٹی سی کاوش(MolanaJameel.com) میں شامل کرتے رہیں گے ۔ تمام اہل علم و ایمان کو  چاہیے کہ ‘دعوت اِلَی اللہ’ میں اپنی کوششوں کو اور بھی تیز کر دیں،  امت مسلمہ کےتمام افراد دینِ اسلام کو خود بھی   سیکھ کر اپنی بھی اصلاح کرنے والے بنیں اور اللہ کے بندوں کو نجات  کی راہ دکھانے  وہلاکت کے اسباب سے بچانےکیلئے دعوت  وتبلیغ  کی محنت میں پوری طرح شامل ہو جائیں۔  خاص طور پر موجود معاشرتی حالات  میں جب لوگوں پر خواہشات غالب آچکی  ہیں اور تباہ کن اسباب اور گمراہ کن آثارو ابلاغ پھیل چکے ہیں اور داعیان دینِ حق کم سے کم تر ہو چکے ہیں اور الحاد کے داعیوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔

 واللہ اعلم بالصواب۔۔لاحول ولاقوة الا بالله۔۔ صبرٌجميلٌ وَاللهُ المُستَعَان