“کتاب و سنت کی روشنی میں امت کا افتراق اور راہِ ہدایت”

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت 60 میں اپنے بندوں سے فرمایا ہے کہ
“اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھُٹلایا۔ کچھ شک نہیں ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔”
اور الانعام کی ہی آیت159 میں ہے کہ
جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے آپ(محمد ﷺ) کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام اللہ تعالٰی کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔
تفرقہ بازی کی بنیاد حب جاہ ومال ہوتی ہے ۔ فرقہ بازی ایسی لعنت ہے کہ ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیتی ہے اور ایسی قوم کی ساکھ اور وقار دنیا کی نظروں سے ِگر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو عذاب ہی کی ایک قسم بتایا ہے اور دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے وجہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہبی فرقہ کا آغاز کسی بدعی عقیدہ سے یا عمل سے ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺنے بھی اپنے فرامین سے امت کو پہلے ہی خبردار کردیا کہ میری امت مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگی اور حق کی راستہ کی بھی نشاندہی فرمادی۔ تاکہ جو حق کے متلاشی اور کوشش کرنے والے ہوں اوراُن کو ہردورمیں سیدھا راستہ ڈھونڈنے میں آسانی رہے۔ اگر فتنہ فساد شدت اختیار کرجائے اور سنت پر چلنے والوں کی پیہچان ممکن نہ ہو یا نہ ملیں تو گوشہ نشینی میں اپنی عافیت جانیں، جیسا کہ اِس مضمون میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔

رسولِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ
«خیر الناس قرني ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم»
” بہترین زمانہ میرا ہے پھر اس سے متصل زمانہ اور پھر اس کے بعد کا زمانہ ہے۔”
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کے الفاظ اس سے کچھ مختلف ہیں۔
«خیر أمتي القرن الذي بعثتُ فیهم ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم» والله أعلم ذکر الثالث أم لا»5
” میری اُمت کے بہترین لوگ اس زمانہ کے ہیں جس میں میری بعثت ہوئی، اس کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد کے دور میں ہوں گے اور ان کے بعد وہ لوگ جو اس دوسرے زمانہ کےبعد میں آئیں گے۔راوی کا کہنا ہے کہ واللہ اعلم آپؐ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں؟”
صحیح مسلم میں ہی حضرت عائشہ ؓ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی ہے:
«قالت: سأل رجل النبي ﷺ أي الناس خیر؟ قال: «القرن الذي أنا فيه ثم الثاني ثم الثالث»
”حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسولِ اکرمﷺ سے سوال کیا کہ بہترین لوگ کون ہیں؟ آپ ؐ نے جواب دیا کہ میرے زمانے کے لوگ، پھر دوسرے اور پھر تیسرے زمانے کے لوگ۔ ”

صحیح بخاری میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لاتسبوا أصحابي فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مدّ أحدهم ولا نصیفه»12
”میرے صحابہ کو بُرا مت کہو۔ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ صحابہ کرام کے دو چلو یا ایک چلو بھر صدقہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔”
( جیسا کہ جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 550 (حدیث مرفوع )
محمود بن غیلان، ابوداؤد حفری، سفیان، عبدالرحمن بن زیاد بن انعم افریقی، عبداللہ بن یزید، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت پر بھی وہی کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا اور دونوں میں اتنی مطابقت ہوگی جتنی جوتیوں کے جوڑے میں ایک دوسرے کے ساتھ۔ یہاں تک کہ اگر ان کی امت میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا کرنے والا آئے گا اور بنواسرائیل بہتر فرقوں پر تقسیم ہوئی تھی لیکن میری امت تہتر فرقوں پر تقسیم ہوگی ان میں ایک کے علاوہ باقی سب فرقے جہنمی ہوں گے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ نجات پانے والے کون ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر چلیں گے۔

اور
مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر167

” اور حضرت عبداللہ بن عمرو راوی ہیں کہ سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ بلاشبہ میری امت پر (ایک ایسا زمانہ آئے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا اور دونوں میں ایسی مماثلت ہوگی) جیسا کہ دونوں جوتے بالکل برابر اور ٹھیک ہوتے ہیں یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدفعلی کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو ایسا ہی کریں گے اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی اور وہ تمام فرقے دوزخی ہوں گے ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جنتی فرقہ کون سا ہوگا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جس میں میں اور میرے صحاب ہوں گے۔ (جامع ترمذی) اور مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد نے جو روایت معاویہ سے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ بہتر گروہ دوزخ میں جائیں گے اور ایک گروہ جنت میں جائے گا اور وہ جنتی گروہ ” جماعت” ہے اور میری امت میں کئی قومیں پیدا ہوں گی جن میں خواہشات یعنی عقائد و اعمال میں بدعات اسی طرح سرائیت کر جائیں گی جس طرح ہڑک والے میں ہڑک سرایت کر جاتی ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس سے باقی نہیں رہتا۔
ایک دوسری مسند احمد کی حدیث:جلد ہفتم:حدیث نمبر 121 میں ہے کہ

ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت امیر معاویہ (رض) کے ساتھ حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ ظہر کی نماز پڑھ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے یہودونصاری اپنے دین میں بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ ایک فرقہ جماعت صحابہ کے نقش پر ہوگا اور میری امت میں کچھ ایسی اقوام بھی آئیں گی جن پر یہ فرقے (اور خواہشات) اس طرح غالب آجائیں گی جیسے کتا کسی پر چڑھ دوڑتا ہے اور اس شخص کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا نہیں رہتا جس میں زہر سرایت نہ کر جائے، اللہ کی قسم! اے گروہ عرب! اگر تم اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت پر قائم نہ رہے تو دوسرے لوگ تو زیادہ ہی اس پر قائم نہ رہیں گے۔

قال رسول الله ﷺ انقسمت الیھود إلی إحدی و سبعین شعبةو انقسمت النصاریٰ إلی إثنین و سبعین شعبة و سنقسم أمتی إلی ثلاثة و سبعین شعبة کلھا فی النار الا واحدة۔ قالوا : ما ہی یا رسول اللہ ﷺ قال الذی علیہ أنا و صحابتی ۔
حدیث مشہور صحیح و روی فی اکثر مسانید و السنن کسنن ابوداؤد و النسائی و غیرہم۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہود 71فرقوں میں بٹ گئے تھے اور نصاریٰ 72فرقوں میں ۔میری امت عنقریب 73فرقوں میں بٹے گی ۔یہ سب فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے ۔صحابہ کرام  نے پوچھا یہ کونسا فرقہ ہوگا ۔ فرمایا جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہُ ہیں (۔یہ مشہور صحیح حدیث ہے اور اکثر مسانید اور سنن میں روایت کی گئی ہے)۔

اس سے پتا چلا کہ صرف وہی لوگ صحیح راستہ پر رہ سکیں گے جو سنت کے اتباع کے ساتھ صحابہ کے طریقے کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔اہل سنت والجماعت ان ہی کا نام ہے جس میں اہل سنت سے مراد متبعین سنت اور و الجماعت سے مراد جماعت صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ تینوں قسم کے صحابہ اور صحابیات یعنی امہات المؤمنین ، اہل بیت طہار رضی الله عنہم و عنہن اور عام صحابہ و صحابیات رضی الله عنہم و عنہن کے متبعین تو صحیح طریقے پر ہیں ۔ان میں سے کسی ایک کے طریقے سے محرومی اتنی ہدایت سے محرومی اور کسی ایک کا بھی مخالف مکمل ہدایت سے محرومی کا سبب ہے۔ اہل سنت وا لجماعت کے عقیدے کیا ہیں۔یہ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں

جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ
سنن ابوداؤد:(جلد سوم:حدیث نمبر 1192 )
وہب بن بقیہ، خالد، محمد بن عمر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہود تو اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور انصار بھی اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی کہ ان تہتر فرقوں میں سے صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور یہ وہ فرقہ ہوگا جو ہمیشہ حق پر اور میری سنت پر قائم رہے گا۔
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: “یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ١؎”۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الإیمان ١٨ (٢٦٤٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٧ (٣٩٩١)، مسند احمد (٢/٣٣٢) (حسن صحیح)
وضاحت: ١؎ : اس حدیث میں مذموم فرقوں سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جن کا اختلاف اہل حق سے اصول دین و عقائد اسلام میں ہے، مثلا مسائل توحید، تقدیر، نبوت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و موالات وغیرہ میں، کیونکہ انہی مسائل میں اختلاف رکھنے والوں نے باہم اکفار و تکفیر کی ہے، فروعی مسائل میں اختلاف رکھنے والے باہم اکفار و تکفیر نہیں کرتے، (٧٣) واں فرقہ جو ناجی ہے یہ وہ فرقہ ہے جو سنت پر گامزن ہے، بدعت سے مجتنب اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

اوپر بیان کی گئی احادیث میں بنی اسرائیل اور اس امت کی مماثلث کو جوتوں کی برابری سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح بنی اسرائیل کے لوگ اپنے زمانہ میں بداعمالیوں میں مبتلا تھے اسی طرح ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جب اس امت کے لوگ بھی بالکل بنی اسرائیل کی طرح ہوجائیں گے اور ان کے عقائد و اعمال میں ان سے بالکل مطابقت ہوجائے گی۔ یہاں ماں سے حقیقی ماں مراد نہیں بلکہ باپ کی بیوی یعنی سوتیلی ماں مرادی ہے اس لئے کہ حقیقی ماں سے اس قسم کا معاملہ بالکل بعید ہے کیونکہ اس میں شرعی رکاوٹ کے ساتھ طبعی رکاوٹ بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح ” امتی ” سے مراد اہل قبلہ ہیں یعنی جو مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ اس شکل میں کلھم فی النار یعنی وہ تمام فرقے دوزخ میں ہوں گے کہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ سب اپنے غلط عقائد اور بداعمالیوں کی بنا پر دوزخ میں داخل کئے جائیں گے، لہٰذا جس کے عقائد و اعمال اس حد تک مفسد نہ ہوں گے کہ وہ دائرہ کفر میں آتے ہوں تو اللہ کی رحمت سے وہ اپنی مدت سزا کے بعد دوزخ سے نکال لئے جائیں گے۔
آخر حدیث میں جنتی گروہ کو ” جماعت” کہا گیا ہے اور اس سے مراد اہل علم و معرفت اور صاحب فقہ حضرات ہیں ان کو ” جماعت” کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ حضرات کلمہ حق پر جمع ہیں اور دین و شریعت پر متفق ہیں،

اس موقع پر مناسب ہے کہ حدیث میں مذکورہ تہتر فرقوں کی تفصیل کردی جائے۔
اہل اسلام میں بڑے گروہ آٹھ ہیں۔ (١) معتزلہ (٢) شیعہ (٣) خوارج (٤) مرجیہ (٥) بخاریہ (٦) جبریہ (٧) مشبہہ (٨) ناجیہ،
پھر یہ آٹھوں گروہ چھوٹے چھوٹے فرقوں پر اس طرح منقسم ہیں۔
(١) معتزلہ کے بیس فرقے ہیں۔
(٢) شیعہ کے بائیس فرقے ہیں۔
(٣) خوارج کے بیس فرقے ہیں۔
(٤) مرجیہ کے پانچ فرقے ہیں
(٥) بخاریہ کے تین فرقے ہیں
(٦) جبریہ
(٧) مشبہہ صرف ایک ایک ہی فرقے ہیں ان میں کئی فرقے نہیں ہیں
اور آٹھواں گروہ ناجیہ بھی صرف ایک ہے اور وہ اہل السنہ ہیں جو جنتی ہیں۔ ( اہل السنہ والجماعۃ ۔ مختصراؐ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور صحابہ کرام رض کی جماعت کے مطابق عقیدہ و عمل کرنے والی امت ہے “یاد رہےکہ اِس سے مراد موجودہ زمانہ کی کوئی ایک جماعت نہیں، بلکہ اس میں صحیح عقیدہ وعمل والے تمام السنہ داخل ہیں۔ والله اعلم بالصواب۔”)

اس موقع پر ان فرقوں کے عقائد بھی اجمالی طور پر سن لیجئے۔
معتزلہ فرماتے ہیں کہ بندہ اپنے تمام اعمال کا خالق ہے، کا سب نہیں ہے نیز ان کا عقیدہ ہے کہ بندہ صالح کو ثواب دینا اور بد کار بندہ کو عذاب دینا اللہ پر واجب اور ضروری ہے اسی طرح اس فرقہ کے لوگ باری تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں،
مرجیہ کا عقیدہ ہے کہ جس طرح کافر کے لئے اس کے صالح اور نیک اعمال کار آمد نہیں ہیں اسی طرح مومن کو اس کے اعمال بد کچھ نقصان و ضرر نہیں پہنچاتے اور نہ اس کے ایمان میں کوئی نقص پیدا ہوتا ہے،
بخاریہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال کا انکار کرتے ہیں اور کلام الہٰی کو حادثات مانتے ہیں۔ جبریہ کا عقیدہ ہے کہ بندہ مجبور محض ہے اسے اپنے کسی عمل پر کوئی اختیار نہیں ہے، مشبہہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو مخلوق کے مشابہ مانتے ہیں اور ذات باری تعالیٰ کی جسمیت کے قائل ہیں، نیز ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق میں حلول کرتا ہے
اور شیعہ اور خوارج کے عقائد مشہور ہی ہیں،
یعنی شیعہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تفصیل کے قائل ہیں، اب ان میں بھی کئی فرقے ہیں، شیعہ کے بعض فرقے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق وعمر فاروق (رضی اللہ عنہ) پر فضیلت و فوقیت دیتے ہیں لیکن شیخین کی تکفیر نہیں کرتے مگر دوسرے فرقے حضرت ابوبکر صدیق وعمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی تکفیر کے بھی قائل ہیں۔ (نعوذبا اللہ)
نیز بعض شیعہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ قرآن اپنی مکمل صورت میں موجود نہیں ہے بلکہ اس کی بعض وہ آیتیں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی منقبت میں تھیں، حذف کردی گئی ہیں،
خوارج حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دشمن جماعت کو کہتے ہیں یہ لوگ حضرت علی کرم وجہہ اللہ کی تکفیر کے قائل ہیں (نعوذ با اللہ )اور بڑا عقیدہ یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کے ساتھ ساتھ صغیرہ گناہ والا بھی کافر ہو جاتا ہے. ( نعوذ با اللہ )

خوارج کی باقی وضاحت اِن حسن احادیث سے جانیئے:

جبکہ (سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر173)
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق ازرق، اعمش، حضرت ابی بن اوفیٰ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خوارج جہنم کے کتے ہیں۔
( ابن ابی اوفی (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: “خوارج جہنم کے کتے ہیں”۔
تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٦٩، ومصباح الزجاجة: ٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٥) (صحیح) (اعمش کا سماع ابن أبی أوفی سے ثابت نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
“اسی طرح ایک اور متفق علیہ حدیث :
سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 412 حدیث متواتر حدیث متفق علیہ
محمد بن معمر بصری جرانی، ابوداؤد طیالسی، حماد بن سلمہ، ازرق بن قیس، شریک بن شہاب سے روایت ہے کہ مجھ کو تمنا تھی کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی صحابی سے ملاقات کروں۔ اتفاق سے میں نے عید کے دن حضرت ابوبرزہ اسلمی سے ملاقات کی اور ان کے چند احباب کے ساتھ ملاقات کی میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ خوارج کے متعلق سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں۔ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے کان سے سنا ہے اور میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں کچھ مال آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مال ان حضرات کو تقسیم فرما دیا جو کہ دائیں جانب اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے اور جو لوگ پیچھے کی طرف بیٹھے تھے ان کو کچھ عطاء نہیں فرمایا چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرضی اللہ عنہ کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال انصاف سے تقسیم نہیں فرمایا وہ ایک سانولے (یعنی گندمی) رنگ کا شخص تھا کہ جس کا سر منڈا ہوا تھا اور وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا یہ بات سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت سخت ناراض ہوگئے اور فرمایا اللہ کی قسم! تم لوگ میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی دوسرے کو (اس طریقہ سے) انصاف سے کام لیتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ پھر فرمایا آخر دور میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے یہ آدمی بھی ان میں سے ہے کہ وہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دائرہ اسلام سے اس طریقہ سے خارج ہوں گے کہ جس طریقہ سے تیر شکار سے فارغ ہوجاتا ہے ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ لوگ سر منڈے ہوئے ہوں گے ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے پیچھے لوگ دجال ملعون کے ساتھ نکلیں گے۔ جس وقت ان لوگوں سے ملاقات کرو تو ان کو قتل کر ڈالو۔ وہ لوگ بدترین لوگ ہیں اور تمام مخلوقات سے برے انسان ہیں۔”

ایک اور حدیث میں ہے کہ:
(مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 768 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 15 متفق علیہ 8)
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری (رض) نے پوچھا کہ کیا خوارج دجال کے وجود کا اقرار کرتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے بھی زیادہ انبیاء کے آخر میں آیا ہوں، جو نبی متبوع بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور مجھے اس کے متعلق ایک ایسی چیز بتائی گئی ہے جو کسی کو نہیں بتائی گئی تھی، یاد رکھو! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دائیں آنکھ تو کانی ہوگی اور تم پر یہ بات مخفی نہ رہے کہ وہ کسی چونے کی دیوار میں لگے ہوئے تھوک یا ناک کی ریزش کی طرح ہوگی اور بائیں آنکھ کسی روشن ستارے کی طرح ہوگی اور اس کے پاس ہر زبان بولنے کی صلاحیت ہوگی، نیز اس کے پاس سرسبز و شاداب جنت کا ایک عکس بھی ہوگا جس میں پانی بہتا ہوگا اور ایک نمونہ جہنم کا ہوگا جو کالی سیاہ اور دھوئیں دار ہوگی۔”
جبکہ ایک صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2452 حدیث متفق علیہ 4
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میری امت میں دو گروہ ہوجائیں گے تو ان میں سے مارقہ فرقہ نکلے گا ان خوارج سے وہ جہاد کرے گا جو سب سے زیادہ حق کے قریب ہوگا۔

آخر میں بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1863 حدیث متواتر حدیث متفق علیہ 4
موسی بن اسماعیل، عبدالواحد، شیبانی، یسیر بن عمرو سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن حنیف سے پوچھا کہ کیا تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوارج کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اپنا ہاتھ آپ نے عراق کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ وہاں سے ایک قوم نکلے گی وہ لوگ اس طرح قرآن پڑھیں گے کہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے کہ جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 932 (حدیث مرفوع 8)
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) سے خط لکھ کر پانچ سوالات پوچھے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لوگ سمجھتے ہیں کہ ابن عباس (رض) خوارج سے خط و کتابت کرتا ہے، واللہ اگر مجھے کتمان علم کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی اس کا جواب نہ دیتا۔ نجدہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ یہ بتائیے، کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے؟ ان کے لئے حصہ مقرر کرتے تھے؟ بچوں کو قتل کرتے تھے، یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کا حق ہے؟ حضرت ابن عباس (رض) نے جوابا لکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے اور وہ مریضوں کا علاج کرتی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا حصہ مقرر نہیں کیا تھا البتہ انہیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن ہے) آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہوجائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہوگئی، ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق تھا لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 68 حدیث متواتر، مرفوع 4 )
ابوکریب، ابوبکر بن عیاش، عاصم، حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آخری زمانے میں ایک قوم پیدا ہوگی جن کی عمریں کم ہوں گی بے عقل ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یہ لوگ (رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والی بات (احادیث) کہیں گے لیکن دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیرکمان سے نکل جاتا ہے اس باب میں حضرت علی، ابوسعید اور ابوذر (رضی اللہ عنہ) سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اس حدیث کے علاوہ بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان لوگوں کے اوصاف منقول ہیں وہ یہ کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرکمان سے نکل جاتا ہے ان لوگوں سے مراد خوارج کا فرقہ حروریہ اور دوسرے خوراج ہیں۔

اور سب سے آخر میں یہ حدیث کہ
(مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 1207 حدیث مرفوع مکررات 3 )
سعید بن جمہان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن ابی اوفیٰ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا کہ میں سعید بن جمہان ہوں، انہوں نے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب کیسے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں تو” ازارقہ ” نے قتل کردیا ہے انہوں نے دو مرتبہ فرمایا ازارقہ پر لعنت الٰہی نازل ہو، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے صرف ” ازارقہ ” فرقے کے لوگ مراد ہیں یا تمام خوارج ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمام خوارج ” مراد ہیں پھر میں نے عرض کیا بعض اوقات مسلمانوں کا حاکمِ وقت بھی عوام کے ساتھ ظلم اور نا انصافی وغیرہ کرتا ہے انہوں نے میرا ہاتھ زور سے دبایا اور بہت تیز چٹکی کاٹی اور فرمایا اے ابن جمہان ! تم پر افسوس ہے سواد اعظم (بڑی جماعت) کی پیروی کرو سواد اعظم (بڑی جماعت) کی پیروی کرو اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہے تو اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے وہ ذکر کرو جو تم جانتے ہو اگر وہ قبول کرلے توبہت اچھا ورنہ تم اس سے بڑے عالم نہیں ہو۔ |

اس موقع پر ایک خاص اشکال کی طرف اشارہ کردینا بھی ضروری ہے :

ایک ایسا آدمی جو جاہل تھا اسلام کی دولت سے مشرف ہوا، اس کے سامنے اہل سنہ بھی ہیں اور شیعہ کی جماعت بھی ہے دونوں اس کے سامنے اپنے حق پر ہونے کے دلائل قرآن و سنت سے پیش کرتے ہیں، وہ نو مسلم حیران ہے کہ وہ دونوں میں سے کسے حق جانے اور کس کے دلائل کی تصدیق کرے جب کہ وہ علم سے بالکل بے بہرہ ہے، اس کا سیدھا حل یہ ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو صراحت کے ساتھ اہل سنت و الجماعت کے حق ہونے کی دلیلیں پیش کرتی ہیں اور وہ چیزیں ایسی صاف اور ظاہر ہیں کہ ان کا مشاہدہ عام لوگوں کو بھی ہوا کرتا ہے لہٰذا وہ ان میں غور کرے تو اس کے سامنے اہل سنت کی حقانیت آشکارا ہوجائے گی۔ مثلاً ایک سب سے بڑی کھلی نشانی جو آج سب کے سامنے مشاہدہ میں ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور وہ اہل سنت و الجماعت کے حصہ میں ہے یعنی قرآن کریم کے جتنے بھی حافظ ہوتے ہیں وہ سنی ہوتے ہیں آج تک کسی شیعہ کو حافظ نہیں دیکھا گیا اس لئے کہ ان کی قسمت میں اس عظیم نعمت سے محرومی لکھی ہوئی ہے، ہوسکتا ہے کہ لاکھوں میں کوئی ایک شیعہ حافظ نکل آئے تو یہ نادر ہے جس کا اثر کلیہ پر نہیں پڑتا کیونکہ النادر کا لمعدوم نادر نہ ہونے کے درجہ میں ہے۔ دوسرے یہ بھی ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ دین محمدی ﷺ و شریعت محمدی ﷺ کے ائمہ اور رکن دین جتنے علماء اور اولیاء تھے وہ سب سنی تھے اور ان میں بعض ائمہ و علماء کے شیعہ بھی معتقد ہیں۔ اگر مسلک اہل سنت و الجماعت میں کوئی کجی یا نقص ہو تو وہ حضرات یقینًا اس مسلک کو اختیار کئے ہوئے نہ ہوتے۔ تیسرے اسلامی شعار مثلاً جمعہ، جماعت عیدین وغیرہ علی الاعلان اور کھلے بندوں صرف سنی ہی ادا کرتے ہیں اور شیعہ ان نعمتوں سے محروم و بے نصیب ہیں۔ چوتھے مکہ و مدینہ جو دین اسلام کا مبداء اور مرکز ہے اور وہاں کے باشندے اپنی بزرگی و عظمت کے لحاظ سے ضرب المثل ہیں وہاں کے لوگ بھی اسی مسلک کے پابند ہیں اگر شیعہ مسلک اچھا ہوتا تو وہ لوگ یقینًا سنی نہ ہوتے بلکہ شیعہ مسلک کے پابند ہوتے۔ اسی طرح دوسرے فرقے بھی اپنی حقانیت کے دعوے کرتے ہیں لیکن ان کا جواب یہی ہے کہ کسی کی حقانیت و بطلان پر محض دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک اس دعویٰ کی قوی دلیل نہ ہو۔ اہل سنت و الجماعت کی حقانیت کی دلیل یہ ہے کہ یہ دین اسلام جو ہم تک پہنچا ہے وہ نقل کے ساتھ پہنچا ہے اس میں محض عقل کافی نہیں ہے لہٰذا تواتر اخبار اور احادیث و آثار میں تلاش و جستجو اور تنقیع کے بعد یہ بات متیقّن ہوگئی ہے کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہون اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ اسی مسلک و اعتقاد پر تھے، دوسرے باطل فرقے سب بعد میں پیدا ہوئے، نہ تو صحابہ ان باطل فرقوں کے مسلک کے پابند تھے اور نہ دیگر نیک و صالح لوگ ان فرقوں کے ساتھ تھے اگر صحابہ اور تابعین کے زمانوں میں ان میں سے بعض باطل فرقے پیدا ہوئے تو ان لوگوں نے ان سے اپنی انتہائی نفرت و بیزاری کا اظہار کیا یہاں تک کہ ایسے غلط عقائد و مسلک کے لوگوں سے ان حضرات نے تمام تعلق و رابطے منقطع کر ڈالے،
نیز صحاح ستہ کے حضرات مصنفین و دیگر محدثین علمائے ربانین اور اولیائے کا ظمین تمام کے تمام اہل سنت و الجماعت کے عقائد و مسلک کے پابند تھے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اہل سنت الجماعت کا مسلک حق نہ ہوتا اور ان کے عقیدے صحیح نہ ہوتے تو کروڑہا پدم ہا پدم لوگ اس مسلک حق کے پابند نہ ہوتے جن میں صحابہ بھی تھے اور تابعین بھی، بڑے بڑے اولیاء اللہ بھی تھے اور علمائے محدثین بھی، عقلاء و دانش مند بھی تھے اور عوام بھی۔ بہر حال مسلک اہل سنت و الجماعت کے حق ہونے کی چند مثالیں ہیں ان کے علاوہ بھی بے شمار مثالیں ہیں جو اہل سنت و الجماعت کی حقانیت پر شاہد عادل ہیں، اگر نفسانی خواہشات اور ذاتی اغراض سے الگ ہٹ کر تلاش حق کے حقیقی جذبہ سے اہل حق کی اس جماعت کے عقائد کو دیکھا جائے تو ان کی حقانیت عیاں ہوجائے گی ورنہ بقول شاعر ہشیار کو اک حرف نصیحت ہے کافی ناداں کو کافی نہیں دفتر نہ رسالہ۔
اس حدیث کے ان تمام فرق باطلہ کے لوگوں کو ہڑک والوں سے مشابہت دی گئی ہے اس لئے کہ جس طرح ہڑک والے پر ہڑک غالب ہوتی ہے اور پانی سے بھاگتا ہے نتیجہ میں وہ پیاسا ہوجاتا ہے اسی طرح جھوٹے مذاہب اور باطل مسلک والوں پر بھی خواہشات نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے وہ علم و معرفت کے لالہ زاروں سے بھاگ کر جہل و گمرائی کی وادیوں میں جا گرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی روحانی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ دین و دنیا دونوں جگہ اللہ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔

صحابہ کرام ؓکے بارے میں اہل السنّہ والجماعہ کا عقیدہ
اہل السنہ صحابہ کرام ؓکے بارے میں افراط و تفریط سے بالاتر ہوکر میانہ روی اور اعتدال پر مبنی موقف رکھتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کی عظمت میں غلو کرتے ہوئے اُنہیں اللہ یا رسول اللہﷺ کامقام دے دینا یا اُنہیں ان کےمنصب سےگرا کر طعن و تشنیع او رسب و شتم کانشانہ بنانا اہل السنّہ کے منہج کے منافی ہے۔اہل السنّہ افراط و غلو اور تفریط و تنقیص سے بالاتر ہوکر صحابہ کرام سے محبت رکھتے ہیں اور عدل و انصاف کے ساتھ اُنہیں ان کا صحیح مقام دیتے ہیں، ان کی شان میں غلو کرتے اور نہ ہی کوتاہی و گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اہل السنّہ کی زبانیں صحابہ کرام کی مدح سرا اور ان کے دل حُب ِصحابہ سے سرشار ہیں۔
صحابہ کرامؓ کے درمیان جو غلط فہمیاں اور اختلافات رونما ہوئے، اس میں صحابہ رض نے اپنے اجتہادات کی روشنی میں طرزِ عمل اختیار کیا، یہاں بھی ان کے لیے اجر ِاجتہاد مسلّم ہے۔درست ہونے پر دوہرا اجر اور خطا کی صورت میں ایک اجر اور غلطی معاف ہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ معصوم نہیں تھے بلکہ بشری تقاضے سے ان سے لغزشیں ہوتی تھیں،لیکن بہرحال دوسروں کی نسبت اُن کی غلطیاں کم اور خوبیاں زیادہ ہیں او ر اُن کے لیے اللہ عزوجل کی طرف مغفرت و رضوان کا پروانہ بھی ہے۔
صحابہ کرامؓ کے بارے میں اَئمۂ سلف کے اقوال
1. امام طحاوی نے عقیدہ اہل السنّہ کی ترجمانی ان الفاظ سے کی ہے:
”ہم اصحابِِ رسول سےمحبت رکھتے ہیں، ان کی محبت میں کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے اظہارِ برات کرتے ہیں۔ صحابہ سےبغض رکھنے والوں اور ان کا ذکر خیرنہ کرنے والوں سے ہم بغض رکھتے ہیں، ان کا ذکرِ جمیل ہمیشہ ہماری زبانوں پر رہتا ہے۔ صحابہ سے محبت دین وایمان بلکہ خوبی اسلام ہے اوران سے بغض درحقیقت سرکشی اور کفر و نفاق ہے۔”17
2. ابن ابی زید قیروانی مالکی اپنے مشہور رسالہ میں اہل السنّہ کا موقف اس طرح بیان کرتےہیں:
”بہترین زمانہ رسول اکرمﷺ کے شرفِ صحبت سے فیض یاب ہونے والوں کا زمانہ ہے اور ان میں سے افضل ترین بالترتیب خلفاے راشدین حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ صحابہ کرام کا ذکرِ خیر زبانوں پر رہے او ران کے درمیان اختلاف پر بحث نہ کی جائے۔ سب سے بڑھ کر انہی کا حق ہے کہ فتنوں و اختلافات کے واقعات میں ان کے لیے بہتر راہ نکالی جائے اور ان کے حق میں بہتر موقف اختیار کرنے کا تصور اپنایا جائے۔”18
3. امام احمد بن حنبل کتاب السنّہ میں لکھتے ہیں:
”اصحابِ رسول کے محاسن کا تذکرہ اور ان کے باہمی اختلافات پربحث کرنا مستحب ہے۔ جو صحابہ کرام میں سے کسی کو بھی بُرا کہے، وہ بدعتی اور رافضی ہے، ان سے محبت کرنا سنت، ان کی اقتدا اور اُن کے لیے دعا وسیلۂقربت اور ان کی عادات کو اختیار کرنا باعث ِفضیلت ہے۔”
امام احمد کا مزید کہنا ہے:
”کسی کےلیے صحابہ کرامؓ کا ذکرِ سو یا ان پرطعن و تشنیع کرنا جائز نہیں۔ حاکم وقت پر فرض ہے کہ ایسا کرنے والے کو سزا دے، کیونکہ یہ جرم ناقابل معافی ہے۔ سزا دینے کے بعد اس سے توبہ کروائی جائے، اگر توبہ کرے تو بہتر وگرنہ اسےدوبارہ سزا دی جائے اور اسے قید میں رکھا جائے جب تک کہ وہ توبہ کرکے اس فعل مذموم سے باز نہ آئے۔”19
4.امام ابوعثمان صابونی اپنی کتاب عقیدة السلف وأصحاب الحدیث میں لکھتے ہیں:
”اسلاف و محدثین ،صحابہؓ کے باہمی مشاجرات میں سکوت اختیار کرنے اور اُن کے عیوب و نقائص سے زبانوں کو پاک رکھنے کے نظریہ پر قائم ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے لیے رحمت اللہ کا اظہار او ران سے محبت ان کا عقیدہ ہے۔”20
5. شیخ الاسلام ابن تیمیہ اپنی کتاب العقیدة الواسطية میں رقم طراز ہیں:
”اہل السنّہ والجماعہ کا اُصول ہےکہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں زبانیں اوردل ہر طرح کی پراگندگی سے محفوظ رہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے : ﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَ‌بَّنَا اغفِر‌ لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَ‌بَّنا إِنَّكَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ١٠ ﴾…. سورة الحشر
رسول ِمکرمﷺ کے اس فرمان کی اطاعت میں ان کے سرتسلیم خم ہیں کہ «لاتسبوا أصحابي فوالذي نفسي بیده لو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذهبًا ما بلغ مد أحدهم ولا نصیفه».صحابہ کرامؓ کے فضائل میں درجات و مراتب پر اہل السنّہ ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے قبل جانی و مالی معاونت کرنے والوں کی فضیلت، مہاجرین کی انصارِ صحابہؓ پر برتری، غزوۂ بدر کے شرکا کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا حصول (اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم) صلح حدیبیہ کےموقع پر درخت تلے بیعت کرنےوالوں پر نارِ جہنم کی حرمت بلکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے پروانے ﴿رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ﴾،عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہؓ مثلاً ثابت بن قیس بن شماس وغیرہم کے لیے جنت کی بشارتیں اہل السنّہ والجماعۃ کے عقیدہ کا حصہ ہیں۔
خلفاے راشدین میں بالترتیب حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ  ، ان کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ ، تیسرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  اورچوتھے حضرت علی رضی اللہ عنہ  اس اُمت کے بہترین افراد ہیں۔  (بشکریہ محدث میگ)

aikhtilaf-e-umat-aur-allah-ki-rahmet-wale-b  کتاب و سنت کی روشنی میں امت کا افتراق اور راہِ ہدایت aikhtilaf e umat aur allah ki rahmet wale b

اللہ کے بندو کی مثال:
علی بن حجر سعدی، بقیہ بن ولید، بحیربن سعد، خالد بن معدان، جبیر بن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان کلابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی اس طرح مثال دی ہے کہ وہ ایسی راہ ہے جس کے دونوں جانب دیواریں ہیں جن میں جابجا دروازے لگے ہوئے ہیں جن پر پردے لٹک رہے ہیں۔ پھر ایک بلانے والا اس راستے کے سرے پر کھڑا ہو کر اور ایک اس کے اوپر کھڑا ہو کر بلا رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی “وَاللّٰهُ يَدْعُوْ ا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَ قِيْمٍ ” 10۔ یونس : 25)۔ (یعنی اللہ جنت کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلا دیتا ہے) اور وہ دروازے جو راستے کے دونوں جانب ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی حددود (حرام کی ہوئی چیزیں) ہیں۔ ان میں اس وقت تک کوئی گرفتار نہیں ہوسکتا جب تک پردہ نہ اٹھائے یعنی صغیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کرے اور اس راستے کے اوپر پکارنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ نصیحت کرنے والا ہے۔  (جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 784 حدیث مرفوع مکررات ، حدیث حسن غریب ہے)

رسول اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو راہ ہدایت کیلئے یہ دعا(ترجمہ): حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے  کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا:(کہ ایسے دعا کرو)” کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے یہ ذکر کیا کرو کہ صراط مستقیم عطا فرما، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی توفیق عطا فرما( نیت کیا کرو)” (سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 833  متفق علیہ)

ہدایت حاصل کرنے کے لئے جب سورة فاتحہ کو پڑھا جاتا ہو تو اھدنا الصراط المستقیم سے آخر تک پڑھنے میں دل کو شامل رکھا جائے اور ایک مسنون دعا ہے اس کی کثرت بہت مفید ہے ۔

 اللھم أرنا الحق الحق و ارزقنا إتباعہ و أرنا الباطل الباطل و ارزقنا إجتنابہ۔

ترجمہ: (اے اللہ ! ہمیں حق بھی دکھا اور حق کا حق ہونا بھی دکھا اور باطل بھی دکھا اور باطل کا باطل ہونا بھی ہم پر واضح فرما اوراس سے بچنے کی توفیق عطا فرما)  آمین یارب العالمین!

۔قارین سے ہمارے لئے بھی ہدایت کی دعا کی درخواست ہے کہ کہیں بھٹک نہ جائیں۔

اللہ تعالٰی تمام امتِ محمدﷺ کو راہ ہدایت نصیب فرمائے، اپنی اور اپنے محبوب محمد ﷺ کی سچی محبت اور اطاعت عطا فرمائے، حق بات، کہنے، سننے اور سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یا اللہ ہمیں ایسا بنا دے کہ اور ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہوجائے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں داخل فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

حوالہ جات و تصدیق:
 تمام مضمون خالصاَ صحیح احادیث سے لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
اور ساتھ ساتھ حوالہ جات پوری تصدیق ساتھ ثبت ہیں۔
 یہاں کسی خاص مسلک یا جماعت کی  تعریف و تحقیر  کرنا مقصود نہیں
 بلکہ رسول اللہ کے صحیح سنت والے کامیاب راستے کو بیان کرنا مقصود ہے۔